104

ویکسین سے کیسے بچا جائے؟

اکثر سوال پوچھا جاتا ہے کہ ویکسین سے کیسے بچیں۔۔۔؟ آج اس موضوع پر کھل کر بات کرتے ہیں۔

پوری دنیا میں حکومتیں زبردستی ویکسین لگانے کی طرف آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے، ملازم پیشہ افراد کو تو مجبور کیا جارہا ہے کہ لگواو ورنہ نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں۔

ایسے افراد جو اس ویکسین کی اصلیت کو جانتے ہیں اور اس سے بچنا چاہتے ہیں وہ اکثر سوال کرتے ہیں کہ ہم ویکسین سے کیسے بچیں۔ یہ تحریر ان کے لیے ہے۔

دیکھیں اس ویکسین سے بچنے کے 2 طریقے ہیں۔

پہلا طریقہ عام شہریوں کے لیے ہے۔

آپ خود کو رجسٹرڈ ہی نہ کروائیں تو کوئی آپ کو زبردستی لگانے آپکے گھر نہیں آئے گا کیونکہ حکومت کے پاس اتنی تعداد میں موجود ہی نہیں کہ کروڑوں آبادی کو گھر گھر جاکر لگائے۔

دوسری صورت ملازمت پیشہ افراد کی ہے۔۔۔

انہیں اپنے ادارے ویکسین لگوانے کے لیے پریشر ڈال رہے ہیں بلکہ مجبور کیا جارہا ہے، دھمکایا جارہا ہے۔ ایسے لوگوں کو بچنے کے لیے تھوڑی زیادہ محنت اور ہمت کرنی ہوگی۔

سب سے پہلے آپ اپنے ادارے کے سربراہ کو دو ٹوک اندا میں واصع کردیں کہ قانون کے مطابق حکومت یا کوئی بھی ادارہ ہمیں تجرباتی مراحل سے گزرنے والی ایک نئی دوائی (ویکسین) جسے ابھی تک مکمل طور پر منظور بھی نہیں کیا گیا، زبردستی ہمیں نہیں لگا سکتے۔ یہ ہمارے آئینی بنیادی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوگی کہ آپ ہماری مرضی کے بغیر ہمیں ایک مشکوک ویکسین زبردستی لگادیں وہ بھی ایک ایسی بماری سے بچانے کے نام پر جس سے پہے ہی 99۔99 فیصد لوگ بغیر لگوائے ازخود ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ یعنی جس بیماری سے مرنے کی شرح اتنی کم ہے کہ اس بارے سوچنا بھی فضول ہوگیا۔۔۔

ساتھ ہی اپنے ادارے کے سربراہ کو یہ بھی واضع کردیں کہ اگر آپ ہمیں زبردستی یہ ویکسین لگاتے ہو تو پھر مستقبل بھی اگر ہمیں کچھ بھی ہوا، مثلا کینسر ہوگیا، ایڈز لگ گئی یا کوئی بھی نئی بیماری ہوگئی یا بلڈ کلاٹس بننے لگے (جو کہ یورپ میں سینکڑوں کے بنے بھی اور کئی سو اموات بھی ہوئیں) یا کوئی بھی دوسرے خطرناک سائیڈ افیکٹس سامنے آئے تو آپ تحریر طور پر ابھی سے ہمیں یہ لکھ کر دیں کہ ان سب کے زمہ دار آپ ہوں گے اور بعد میں ہم آپکے خلاف مقدمہ درج کروائیں گے۔ یقین کریں کسی بھی ادارے کا سربراہ ذمہ داری لینے سے صاف انکار کردے گا۔

پتا ہے کیوں؟

کیونکہ انہیں خود بھی نہیں معلوم کہ اس ویکسین کے مستقبل میں کیا اثرات سامنے آئیں گے۔

کیوں پتا نہیں؟

وہ اس لیے اس ویکسین کا لانگ ٹرم ڈیٹا موجود ہی نہیں ہے۔ لانگ ٹرم ڈیٹا کے بغیر کسی بھی ویکسین کو محفوظ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اپنے ادارے کے سربراہ کو یہ بھی صاف صاف کہہ دیں کہ اگر آپ زمہ داری نہیں لے سکتے تو پھر ہمیں زبردستی بھی نہیں لگا سکتے۔ پھر ہماری مرضی ہے کہ ہم لگوائیں یا نہ لگوائیں۔ اگر آپ زمہ داری نہیں لیتے، تحریر طور پر لکھ کر نہیں دیتے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو بھی اس کے لانگ ٹرم سائیڈ افیکٹس کا کوئی علم نہیں ہے کہ مستقبل میں یہ چیز کیا بھیانک نتائج لاسکتی ہے۔۔۔۔ لہذہ یا تو لکھ کر دو یا پھر زبردستی سے باز رہو۔

یاد رہے حکومتیں بھی زمہ داری لینے سے صاف انکار کر رکھا ہے۔

وزیر صحت پنجاب پاکستان ڈاکٹر یاسمین راشد خود ایک سینئر ترین ڈاکٹر ہیں، انہوں نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں باقائدہ اعلان کیا کہ عوام اپنی ذمہ داری پر ہی ویکسین لگوائے، کل کو آپ کو کچھ بھی ہوا تو اسکی ذمہ دار حکومت نہیں ہوگی۔ یعنی دوسرے الفاظ میں حکومت نے صاف صاف زمہ داری لینے سے انکار کردیا ہے۔

کیوں انکار کردیا۔۔۔۔؟

اگر یہ کہتے ہیں کہ ویکسین محفوظ ہے، سب لگوالو تو پھر یہ اسکی ذمہ داری لینے سے کیوں بھاگتے ہیں؟؟ کیا آپکو اب بھی انکی دو نمبری سمجھ نہیں آرہی کہ انکے اپنے ہی قول و فعل میں واضع تضاد ہے۔

ایک طرف یہ ذمہ داری لینے سے بھی صاف انکار کرتے ہیں تو دوسری طرف اسے محفوظ کہہ کر آپکو الو بھی بناتے ہیں کہ لگواو۔۔۔۔ اور آپ انکی باتوں پر اندھہ یقی یقین کرلیتے ہیں۔۔۔۔ اففف۔۔۔

سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ذمہ داری لینے سے کیوں انکاری ہیں؟؟

آپ اس بارے کیوں نہیں سوچتے؟

آپ ان سے سوال کیوں نہیں کرتے کہ اگر تم کہتے ہو کہ یہ محفوط ہے تو لکھ کر دو تاکہ بعد میں ہم تمہیں سرعام پھانسی دے سکیں۔۔۔۔

یقین کریں ان میں سے کوئی بھی آپکو لکھ کر نہیں دے گا۔

ویکسین محفوظ کیوں نہیں۔۔۔۔؟؟
اسکی وجہ یہ ہے کہ ویکسین کا لانگ ٹرم ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

کوئی بھی ڈاکٹر چاہے کتنا ہی سینئر کیوں نہ ہو اس ویکسین کے مکمل محفوظ ہونے کی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام ممالک میں اس ویکسین کو ایمرجنسی طرز پر پہلے سے طع شدہ ایجنڈے کے تحت عجلت میں شروع کروایا گیا ہے۔ جیسے ہی عوام نے اقوام متحدہ یہودیوں کی بات کو سچ مان لیا، وباء کو تسلیم کرلیا تو انہوں نے ویکسین پر لگادیا، آپ نے ویکسین کو بھی مان لیا تو اب وہ زبردستی لگانے کر آگئے۔ آہستہ آہستہ وہ اپکو غلام بناتے جارہے ہیں۔۔۔ اقوام متحدہ کے شیطانوں نے دنیا بھر کی حکومتوں کو زبردستی ویکسین لگانے کے مشورے دیے ہیں حالانکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ اس بیماری سے بچنے کے چانسز 99۔99 فیصد ہیں۔

انکا مقصد آپکی صحت نہ پہلے تھا نہ اب ہے۔۔۔ انکا مقصد صرف عالمی آبادی گھٹانا ہے اور آپکی پرائیوسی اور حقوق ضبط کرکے دنیا پر ٹوٹل کنٹرول حاصل کرنا ہے تاکہ ٹوٹل کنٹرول کے بعد وہ عالمی دجالی حکومت کا قیام عمل میں لاسکیں۔ یعنی پوری دنیا کی ایک حکومت۔۔۔ جی ہاں وہی عالمی دجالی حکومت جسے صیہونی دانا بزرگوں کی خفیہ دستاویزات “دی الیومیناٹی ہروٹوکولز” میں واضع طور پر زکر کیا جاچکا ہے کہ ہم عالمی حکومت قائم کرکے پوری دنیا کو غلام بنائیں گے اور پھر ہمارہ مسیحہ دنیا پر فرعون کی طرح حکمرانی کرے گا۔

واپس موضوع پر آتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

اگر آپ کو ادارے کی جانب سے زبردستی ویکسین لگائی جارہی ہے تو لازمی طور پر اپنے ادارے کے سربراہ سے تحریری طور پر بیان حلفی مانگ لیں کہ کل کو کچھ ہوا تو ذمہ دار تم ہوگے۔ بیان حلفی کے بغیر ہرگز مت لگوائیں، صاف انکار کردخں ورنہ آپ ایک مرتبہ اپ نے حقوق اپنی پرائیوسی انہیں سونپ دی تو آپ انکے اغلام بنتے جائیں گے۔

ایک اور صورت یہ بھی ہے کہ اگر آپکے ادارے میں آپ جیسے ہی ہم خیال لوگ موجود ہیں جو آپ کی طرح یہ ٹیکا نہیں لگوانا چاہتے تو آپ سب مل کر ایک اچھا پریشر گروپ بنائیں اور اپنے ادارے کے خلاف احتجاج کریں بلکہ اپنا آئینی حق حاصل کرنے کے لیے عدالت جانے پڑے تو وہاں بھی جائیں.

عدالت کو بتائیں کہ اس ویکسین کا لانگ ٹرم ڈیٹا ابھی تک دنیا کے کسی بھی سائنسدان کے پاس موجود نہیں ہے اور جب تک کسی بھی ویکسین کا لانگ ٹرم ڈیٹا پاس نہ ہو جس کے زریعے اسکے محفوظ ہونے کسی سائنسی منطق یا دلیل دی جاتی ہے تو ایسی تجرباتی مراحل سے گزرنے والی ویکسین کو محفوظ نہیں کہا جاسکتا اور اسے مکمل منظوری سے پہلے صرف تجرباتی ویکسین کہا جاتا ہے اور اسے کسی کو بھی زبردستی نہیں لگایا جاسکتا۔

یعنی اسکی مکمل طور پر ابھی منظور نہیں دی گئی ہے، دنیا کے کسی ملک میں بھی نہیں دی گئی، کیونکہ ابھی تک اسکے لانگ ٹرم یعنی 3 سے 5 سال تک کیا اثرات سامنے آتے ہیں دنیا کے کسی بھی سائنسدان کو نہیں پتا۔

قانون کے مطابق حکومت کسی بھی شہری کو تجرباتی مراحل سے گزرنے والی دوا نہیں پلا سکتی، ویکسین نہیں لگاسکتی، مجبور نہیں کرسکتی۔

آپ پریشر گروپ بنائیں، عدالت جائیں، سڑکوں پر نکلیں، اپنے چاہنے والوں کو بھی حکومت کی اس زبردستی کے خلاف آگاہ کریں، انہیں ویکسین کے منظور ہونے کے مراحل کے بارے بتائیں کہ یہ ابھی منظور نہیں ہوئی بلکہ تجرباتی مراحل سے گزر رہی ہے اور جب تک تجرباتی مراحل یعنی 3 سے 5 سال نہیں گزر جاتے اور اسکا لانگ ٹرم ڈیٹا نہیں آجاتا تب تک اسے محفوظ نہیں کہا جاسکتا لہذہ جب تک اسکے محفوظ ہونے کی دلیل نہیں آجاتی ہمیں ہرگز نہیں لگوانی چاہیے۔

ویسے بھی لگوانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟

پاکستان میں 99 فیصد افراد تو ازخود بنا کسی ویکسین کے ٹھیک ہوچکے ہیں اور دنیا میں اکثریت لوگوں کی بہتری کی طرف گامزن ہے، پھر انہیں زبردستی کرکے ویک سین کس مقصد کے لیے لگوائی جارہی ہے؟

کیا ہم سب پاگل ہوگئے ہیں؟

سائنسی دلائل کو کیوں نظرانداز کیا جارہا ہے؟

صرف سیاسی گدھوں کی باتوں پر ہم کیوں مان لیں کہ یہ ویکسین محفوظ ہے ؟؟

یقین کریں ایک مرتبہ آپ نے عالمی پلان کو تسلیم کرلیا، نزلہ زکام کے اس معمولی وائرس کو وباء تسلیم کرلیا، پھر اسکے بہانے ویکسین کو بھی تسلیم کرلیا تو وہ آپکو مزید اپنی باتیں منواتے جائیں گے، وہ آپکو بھیڑ بکریوں کی طرح مزید آگے ہانکتے چلے جارہے ہیں اور آپ بیوقوف بن کر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ انہیں آپکی صحت کی پرواہ ہے۔

آپ نے ایک مرتبہ اس مشکوک ویکسین کو تسلیم کرلیا تو اگلی دفعہ وہ پھر کوئی اور بات منوائیں گے، یوں آہستہ آہستہ آپ اپنی آزادی کھوتے جائیں گے، اپنی پرائیوسی انکے قدموں میں ڈال کر انکے غلام بنتے جائیں گے۔ پھر وہ آپکی کوئی بات نہیں مانیں گے، اپنی منطق تھوپ کر ہر بات زبردستی منواتے چلے جائیں گے کیونکہ آپ نے ہی زبردستی انہیں منوانے کا موقع دیا ہے۔ وہ آپکو مستقبل میں پھر کبھی خوفزدہ کرکے ہر بات منوالیں گے۔

اس لیے اپنے حق کے لیے لڑنا شروع کرو۔۔۔۔

حکومت اور اپنے اداروں کے سربراہوں سے سوال کرو کہ جس چیز کی ضرورت ہی نہیں تو اسے کیوں لگوایا جائے؟؟

اگر لگوائے بنا نام نہاد وباٰء سے نہیں بچا سکتا تو بتایا جائے دنیا کے 99 فیصد افراد کیسے بچ گئے؟

پاکستان کے 99۔99 فیصد افراد کیسے صحتیاب ہوگئے؟

جب ایک مرتبہ کوئی صحتیاب ہوجاتا ہے تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسکا امیونی سسٹم یعنی “مدافعتی نظام” وائرس کو شکست دیکر کامیاب ہوچکا ہے۔ اب جبکہ مدافعتی نظام وائرس کو پہچان کر اسے شکست دیکر اپنی ہسٹری میں اسے محفوظ بھی کرچکا ہے تو اسی کام کے لیے ویکسین کس لیے لگوائیں؟

یقین کریں آپکو زور زبردستی کے بہانے غلام بنایا جارہا ہے باقی اس ٹیکے کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں۔

🔴🌳بقول شاعر 🌳🔴

اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو
گرماؤ غلاموں کا لہو سوز یقیں سے
کنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو
سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو۔۔۔۔۔ !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں